17 فروری 2013 - 20:30

عراق میں بیرونی طاقتوں کےبعض سیاسی پٹھو اس ملک میں سیاسی بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں ۔

ابنا: عراق کی وزارت داخلہ نے ایسے دھڑوں کے اشتعال انگیز اقدامات کی بابت خبر دار کیا ہے ۔ عراق کی وزارت داخلہ کے اعلی عہدیدار عدنان الاسدی نے تاکید کی ہے کہ عراق کے کسی بھی صوبے  میں سابق حکومت اور دہشت گرد گروہ القاعدہ کا پرچـم ہاتھوں میں اٹھانے والے کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں سنی نشین علاقوں میں مظاہرہ کرنے والے بعض غیر ذمہ دار لوگوں نے بعث پارٹی کا پرچم ہاتھوں میں اٹھارکھا  تھا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے  ۔ چنانچہ عراق کے حالات اس طرح کے اقد امات میں محدود نہیں ہیں ۔ حالیہ دنوں میں بھی قطر اورترکی کی طرف سے عراق کو کئی حصوں میں تقسیم کرنے کی رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں ۔
 عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ اسامہ النجیفی کے قطر کے دارالحکومت  دوحہ کے سفر کے موقع  پر اس طرح کی خبروں کی اشاعت کے بعد عراقی حکام کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا  ہے  ۔حالیہ دنوں میں عراقی پارلیمنٹ کے سو نمایندوں نے ایک خط پر دستخط کر کے اسامہ  النجیفی کو پارلیمنٹ کی سربراہی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس  وقت بعض سرکاری حکام  اور عراقی  پارٹیوں کے درمیان ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو قطر اورترکی کے ساتھ مل کر موجودہ سیاسی روش کے خلاف اقداما ت کررہے ہیں ۔سنی علاقوں میں حکومت  کے خلاف جاری مظاہروں اور اشتعال انگیز اقدامات   اور بعض عراقی شخصیات کی طرف سے وجود میں آنے والے قومی اورقبائلی نظریات کے نتیجہ میں سرکاری سطح پر غلطی فہمی پھیل گئی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں عراق سیاسی بحران میں گرفتار ہوگیا ہے اور یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس لئے کہ ثبوت وشواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نوری مالکی کی حکومت  کے خلاف بیرونی طاقتوں کی  طرف  سے باقاعدہ منصوبہ بند سازشوں کا نتیجہ ہے ۔ ادھر بیرونی طاقتوں کے پٹھوبعض عراقی گروہ جیسے فہرست العراقیہ اور بعض سنی تحریکیں نیز القاعدہ جیسادہشت گرد گروہ بھی بغداد کے خلاف بیرونی طاقتوں کی منصوبہ  بند سازشوں کو عملی جامہ  پہنارہا ہے ۔ قطر اور ترکی سعودی عرب کے ساتھ ملکر تقریبا دوسال سےنوری مالکی اور حکومت بغداد کے خلاف سازشیں کررہےہیں ۔ عراق کی عدلیہ نے جس شخص پر دہشت گردی کا الزام لگایا  ہے اس کی  میزبانی سے عراق میں قطر ،ترکی اور سعودی عرب کے گہرے نظریات اور سازشوں کا  پتہ چلتا ہے ۔
حالیہ تین مہینوں میں قطر ،ترکی اور سعودی عرب نے مختلف طریقوں سے عراق میں قومی اور قبائلی اختلاف پھیلانے کی کوشش کی ہے تاکہ  نوری مالکی کی حکومت کمزور ہوجائے  یا داخلی اور خارجی سطح پر حکومت کو نقصان پہونچایا جائے ۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر حکومت بغداد اور عراق کا شیعہ گروپ  جس کا حکومت میں زیادہ عمل دخل ہے  ہے قومی گفتگو کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش میں مشغول ہے تاکہ عراق میں حکمفرما سیاسی ماحول  کو کم کیا  جاسکے ۔
مجلس اعلی عراق کے سربراہ عمار حکیم  جنھوں نے گذشتہ روز عراق کے مراجع دینی  سے  گفتگو کی ہے ، اس اقدام سے  مرجعیت کے کردار کے ذریعہ عراق کے بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔عراق کی مرجعیت نے حالیہ برسوں میں بہت سے بحران کو حل کرنے کی کوشش کی  ہے ۔اس وقت  بھی یہ امید ہے کہ مرجعیت دینی ایک بار پھر عراق کو بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا  کرے گی اور عراق کے سیاسی گروہوں کو قومی گفتگو کے لئے دعوت دے کر اس ملک میں جاری بیرونی طاقتوں کی سازشوں کے لئے راستے بند  اور ملک میں امن قائم کرنے کے لئے اسباب  فراہم  کردے گی ۔  

.......

/169